بنگلورو،15؍فروری (ایس او نیوز) کرناٹک ہائی کور ٹ میں جہاں حجاب معاملہ میں سماعت کا سلسلہ جاری ہے، کل پیر کے بعد آج منگل دوپہر کو بھی سماعت کی جائے گی۔
پیر کو جیسے ہی ہائی اسکولوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی، ریاست کے تمام اضلاع میں دسویں جماعت کیلئے کلاسوں کی شروعات کی گئی لیکن اکثر اضلاع کے اسکولوں میں اساتذہ نے طالبا ت کو کلاسوں میں حجاب پہن کر بیٹھنے سے روک دیا،جبکہ شیموگہ کے شکاری پور تعلقہ کے ایک اسکول میں 13مسلم طالبات نے حجاب اتارنے سے انکار کرتے ہوئے اسکول میں جاری امتحا ن میں حجاب سمیت حصہ لینے کی اجازت مانگی، جب اسکول انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا تو ان طالبات نے امتحان کا بھی بائیکاٹ کردیا اور اپنے اپنے گھر واپس چلے گئے۔ ان طالبات نے بتایا کہ وہ امتحان میں حصہ لینے اور اسکول میں حاضری کیلئے تیار ہیں لیکن حجاب نہیں اترے گا۔
پتہ چلا ہے کہ سرکاری پبلک اسکول کی طالبات کو گیٹ پر جب اساتذہ نے روک کر حجاب اتارنے کیلئے کہا تو بعض طالبات نے حجاب اُتارنے سے انکار کر دیا، بتایا گیا ہے کہ اساتذہ اور اسکول انتظامیہ نے انھیں بغیر حجاب کے ایک الگ کمرے میں تحریری امتحانات میں شامل ہونے کیلئے سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن طالبات نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور امتحان کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس درمیان اسکول پہنچی بچیوں کے والدین نے بھی ان کا ساتھ دیا اور انھیں یہ کہہ کر گھر لے گئے کہ بغیر حجاب کے وہ کلاسز میں شامل نہیں ہو سکتیں۔ حجاب نہیں ہٹانے کی ضد کے سبب امتحان کا بائیکاٹ کرنے والی طالبات میں شامل عالیہ نے کہا کہ عدالت نے ابھی تک اس معاملے میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی اسکولوں میں بھی ہم جیسی باحجاب لڑکیوں کو داخلہ نہیں دیا جارہا ہے۔ عالیہ نے کہا کہ ہم اپنا حجاب نہیں اتاریں گے۔ بھلے ہی امتحان میں بھی ہمیں بٹھانے سے انکار کردیا جائے۔ امتحان میرے لیے اہم نہیں ہے، مذہب اہم ہے۔ اگر حجاب پہننے کی اجازت نہیں دی گئی تو ہم اسکول نہیں آئیں گے۔ میرے والدین نے کہا تھا کہ اگر وہ حجاب اتارنے کو کہیں گے تو گھر آ جانا چاہیے۔ حالانکہ اسکول میں پڑھ رہی 100 سے زائد دیگر مسلم طالبات بغیر حجاب کے کلاسز میں شامل ہوئیں۔
منڈیا میں حجاب زبردستی اتارا گیا: منڈیا کے روٹری اسکول میں پیر کے روز حجاب پہن کر اسکول پہنچنے والی مسلم طالبات کو اسکول کی استانیوں نے گیٹ پر ہی روک کر ان کا حجاب زبردستی اتاردیا جس پر وہاں موجود والدین نے سخت اعتراض کیا اس وجہ سے کچھ دیر کیلئے علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی۔ اس اسکو ل کی استانیوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مد نظر حجاب کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ حجاب اتارکر آنے پر ہی اسکول میں آنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے بعد طالبات نے مجبوراً اپنا حجاب اتارا اور اسکول میں داخل ہوئیں۔ استانیوں کے اس رویے پر والدین نے مایوسی کا اظہار کیا۔
سڑک پراستانیوں کا حجاب اتارا گیا:اس اسکول نے ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل کرنے میں حد سے متجاوز ہو کر استانیوں کوسڑک پر حجاب اتارکر اسکول میں داخل ہونے کیلئے مجبور کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اسکول کی دو مسلم استانیو ں کو زبردستی سڑک پر ہی برقعہ اور حجاب اتار کراسکول کی گیٹ کے اندر داخل ہونے کیلئے مجبور کیا گیا۔ والدین کی طرف سے اساتذہ سے یہ درخواست کی کم از کم اسکول کے صحن میں داخل ہو کر ان کو حجاب اتار نے کا موقع دیا جائے لیکن ان استانیوں نے یہ بھی نہیں مانا۔ان کا کہنا تھا کہ منڈیا ضلع کے انتظامیہ نے ہدایت دی ہے کہ اساتذہ کو بھی حجاب پہن کر آنے نہ دیا جائے۔
ہائی کورٹ میں سماعت:کرناٹک ہائی کورٹ میں چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا دکشت اور جسٹس زیب النساء محی الدین قاضی پر مشتمل سہ رکنی بینچ کی کارروائی آج منگل کو بھی جاری رہے گی۔ سماعت دوپہر 2.30بجے شروع ہوگی۔